مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ نئی جنگ کے آغاز کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ اگر ایک اور جنگ شروع ہوئی تو اس کے سنگین نتائج پورے خطے کو بھگتنا پڑیں گے۔
الجزیرہ ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے گزشتہ دو سال کے تجربے کو دیکھتے ہوئے ایران ہر ممکن صورت حال کا اندازہ لگا رہا ہے اور ماضی کے مقابلے میں ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے زیادہ تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے گزشتہ جنگوں سے بہت سے اسباق حاصل کیے ہیں، اپنے ہتھیاروں کو جدید بنایا ہے، ان کی کمزوریاں دور کی ہیں اور ان میں نئی صلاحیتیں شامل کی ہیں۔ بعض نئے ہتھیاروں کا تجربہ بھی کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ سفارت کار ہیں اور جنگ کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے، تاہم ایرانی مسلح افواج پہلے سے کہیں زیادہ جنگ اور ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ اگر دوبارہ جنگ ہوئی تو امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے گا اور اس کی سابقہ ناکامیوں میں ایک اور ناکامی کا اضافہ ہوگا۔ جس جنگ کے بارے میں امریکہ کا خیال تھا کہ وہ دو یا تین دن اور زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، وہ اب آٹھ ماہ سے جاری ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر امریکہ جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ اس کا اپنا انتخاب ہوگا، کیونکہ ایران اس صورت حال کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایرانی حکومت ملک کے داخلی امور چلانے، مسلح افواج قومی دفاع اور سفارت کار بین الاقوامی سطح پر ایرانی عوام کی آواز بلند کرنے کے لیے تیار ہیں۔
عراقچی نے کہا کہ ایران مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے بھی آمادہ ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی مذاکرات کی میز نہیں چھوڑی اور نہ ہی سفارت کاری کا راستہ ترک کیا ہے۔ ایران نے ہمیشہ عقلانیت کا راستہ اختیار کیا ہے اور اس مرتبہ بھی دونوں ممکنہ صورت حال کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے تو ایران تیار ہے اور اس کا منصوبہ مذاکرات کی میز پر موجود ہے، لیکن اگر وہ جنگ کا راستہ منتخب کرتا ہے تو ایران اس کے لیے بھی تیار ہے اور اس کی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے موجود ہیں۔
عراقچی نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے صرف امریکی فوجی اڈوں اور امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور اپنے دوست ممالک کو کبھی ہدف نہیں بنایا۔ یہ امریکی اڈے بدقسمتی سے خطے کے ممالک کی سرزمین پر قائم ہیں اور امریکہ نے انہی اڈوں کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے پہلے ہی خطے کے اپنے دوست ممالک کو آگاہ کر دیا تھا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو فی الحال ایرانی میزائل امریکی سرزمین تک نہیں پہنچ سکتے، اس لیے ایران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر اپنا دفاع کرے گا۔ بعض ممالک نے اپنے فوجی اڈے بھی امریکہ کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کے لیے فراہم کیے۔
انہوں نے کہا کہ ایران خطے کے ممالک کے ساتھ انتہائی اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور انہوں نے نیویارک میں خلیج فارس تعاون کونسل کے تمام رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتوں کے دوران ایران کا موقف واضح کیا تھا کہ اس کے حملوں کا ہدف صرف امریکی اہداف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی موقع پر کوئی میزائل غلطی سے کسی دوسری جگہ جا گرا یا اپنے کنٹرول سے باہر ہوگیا تو جنگ کے دوران ایسا ہوسکتا ہے، تاہم اس کا ذمہ دار ایران نہیں بلکہ ان ممالک کی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کے ممالک اب اس حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں کہ امریکی فوجی اڈے ان کے لیے سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کرسکتے۔ یہ اڈے نہ تو ان ممالک کی حفاظت کرسکے ہیں اور نہ ہی اپنی سلامتی یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
عراقچی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ صرف اپنے دفاع میں کارروائی کی ہے۔ ایران نے صرف ان امریکی اہداف کو نشانہ بنایا جو خطے کے ممالک میں واقع ہیں، جبکہ ایران کا کبھی بھی ان ممالک کے دوست اہداف کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں رہا اور نہ ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوجی اڈوں اور خطے میں موجود دیگر امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے معاملے میں ایران کوئی مصلحت نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کے موقف میں اختلاف ہونا فطری بات ہے، تاہم افسوس ناک طور پر بعض ممالک نے امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے کی ترغیب بھی دی تھی۔ امید ہے کہ انہوں نے گزشتہ واقعات سے سبق حاصل کیا ہوگا۔
عراقچی نے زور دیا کہ ان ممالک کے لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ وہ امریکہ میں اپنے دوستوں کو نئی جنگ شروع نہ کرنے پر آمادہ کریں، کیونکہ ایران پر حملہ ہونے کی صورت میں تہران کو اپنے دفاع کے لیے کارروائی کرنا پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ اگر ایران پر حملہ کیا جائے تو وہ خاموش بیٹھا رہے گا اور کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرے گا۔ خطے کے ممالک کو نئی جنگ کے آغاز کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ ایسا تصادم شروع ہونے کی صورت میں اس کے نتائج بدقسمتی سے پورے خطے کو بھگتنا ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ